بیجنگ(شِنہوا)چین کی وزارت ٹرانسپورٹ نے شعبہ نقل وحمل میں نوول کرونا وائرس کی روک تھام و کنٹرول کے اقدامات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک نوٹس جاری کیا ہے۔
جمعرات کو جاری کی جانیوالی دستاویز کے مطابق بین علاقائی مسافروں کو اپنی آمد پر منفی ٹیسٹ نتیجہ فراہم کرنے یا اپنا ہیلتھ کوڈ یا آمد پر ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام سطحوں پر ٹرانسپورٹیشن حکام کم خطرہ والے علاقوں میں مسافروں کی خدمات کو من مانی طور پر معطل یا محدود نہ کریں۔
نوٹس کے مطابق حکام سے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ وبائی امراض کی روک تھام و کنٹرول کی بنیاد پر ایکسپریس وے سروس ایریاز، پورٹ ٹرمینلز، ریلوے سٹیشنز، ہوائی اڈوں اور پوسٹل سروس ڈسٹری بیوشن سینٹرز کو بغیر اجازت بند نہ کریں۔
بیجنگ(شِنہوا) چینی سائنسدانوں کی دو کامیابیوں کو فزکس کے شعبہ میں سال2022 کی 10 بہترین طبیعیات کی کامیابیوں میں شامل کیا گیا ہے، طبیعیات اور بین الضابطہ سائنس کے جریدے، فزکس ورلڈ کے ایڈیٹرز پینل نے ان کامیابیوں کو منتخب کیا ہے۔ سائنس پبلشرکی جانب سے جمعرات کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق، چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر پین جیان ویی کی قیادت میں محققین کی جانب سے تیار کردہ تھری ایٹم الٹرا کولڈ گیس کو ٹاپ 10 کامیابیوں میں جگہ دی گئی ہے۔ پین کے گروپ نے ٹرپل اٹامک مالیکیولز کی ایک الٹرا کولڈ بھاری گیس بناتے ہوئے ایک تجرباتی سنگ میل حاصل کیا جو کوانٹم کیمسٹری کے شعبے کے لیے متعدد تحقیقی مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایڈیٹرز نے کہا کہ ان کی اس تحقیق نے، ہارورڈ یونیورسٹی کی اسی طرح کی کوششوں کے ساتھ، طبیعیات اور کیمسٹری میں، الٹرا کولڈ کیمیکل ری ایکشنز، کوانٹم سمولیشن کی نئی اشکال اور بنیادی سائنس کے ٹیسٹ کے ساتھ نئی تحقیق کی راہ ہموار کی ہے۔بیجنگ کے نیشنل سنٹر فارنینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے منسلک لیو شن فینگ کی ٹیم نے جدید ترین سیمی کنڈکٹرز کے لیے ایک نیا مواد تجویز کیا۔اس ٹیم کی تحقیق کو بھی سالانہ ٹاپ 10 رینکنگ میں جگہ دی گئی ہے۔
بیجنگ(شِنہوا)چین میںکوویڈ۔19 کا سیلف اینٹیجن ٹیسٹ کرنے سے متعلق رہنمائی کیلئے ایک سکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں کوویڈ۔19 ٹیسٹ کرانے کے خواہشمند ، پرہجوم جگہوں پر کام کرنیوالے اور معمرافراد کی رہنمائی کی جائیگی۔
کوویڈ۔19 کیخلاف ریاستی کونسل کے مشترکہ روک تھام و کنٹرول میکانزم کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اینٹیجن کٹس کے ساتھ مثبت ٹیسٹ نتائج والے افراد میں اگر علامات ظاہر نہ ہوں یا ہلکی علامات ظاہر ہوں تو وہ گھر پر ہی قرنطینہ کر سکتے ہیں اور علاج کیلئے مناسب ادویات لے سکتے ہیں۔
ان کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے تو وہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی مدد سے علاج کیلئے طبی اداروں کے فیور کلینک سے رجوع کریں۔
ریاض(شِنہوا) چین اور عرب ممالک کے درمیان دوستانہ تبادلوں اور تعاون کی عکاسی کرنیوالی ایک تصویری نمائش گزشتہ روز ریاض میں شروع ہو گئی ہے۔
چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس اور شِنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام 3 روزہ تقریب کا انعقاد سعودی دارالحکومت کے ثقافتی محل میں کیا جا رہا ہے۔
شِنہوا نیوز ایجنسی کے چائنہ فوٹو آرکائیوز سے منتخب کردہ نمائش میں شامل 103 تصاویر میں اقتصادی، سماجی و ثقافتی تبادلوں اور تعاون، نوول کرونا وائرس وبائی امراض کے خلاف مشترکہ جنگ اور چین اور عرب ریاستوں کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے اہم لمحات کو محفوظ کیا گیا ہے۔
ریاض(شِنہوا) چین اور عرب ممالک کے درمیان دوستانہ تبادلوں اور تعاون کی عکاسی کرنیوالی ایک تصویری نمائش گزشتہ روز ریاض میں شروع ہو گئی ہے۔
چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس اور شِنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام 3 روزہ تقریب کا انعقاد سعودی دارالحکومت کے ثقافتی محل میں کیا جا رہا ہے۔
شِنہوا نیوز ایجنسی کے چائنہ فوٹو آرکائیوز سے منتخب کردہ نمائش میں شامل 103 تصاویر میں اقتصادی، سماجی و ثقافتی تبادلوں اور تعاون، نوول کرونا وائرس وبائی امراض کے خلاف مشترکہ جنگ اور چین اور عرب ریاستوں کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے اہم لمحات کو محفوظ کیا گیا ہے۔
جنین(شِنہوا) مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 3 فلسطینی جنگجو جاں بحق ہو گئے ہیں۔
جمعرات کی صبح ایک سرکاری بیان میں فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 3 فلسطینی جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا ہے۔
بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔ لیکن مقامی اور سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شہر کے مرکزی چوک پر دھاوا بولتے ہوئے ایک فلسطینی گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 فلسطینی جنگجو طارق الدمیج ، صدیقی زکارنہ اور عطاء شلبی مارے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد درجنوں فلسطینی جنگجوؤں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ، مزید بتایا کہ ایک فلسطینی جنگجو شدید زخمی ہوا ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی ایک خصوصی فورس نے ایک فوجی کارروائی کی ہے جس کا مقصد اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو اسرائیل کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مطلوب فلسطینیوں کو گرفتار کرنا تھا۔
مونٹریال، کینیڈا(شِنہوا) چین کے وزیربرائے حیاتیاتی ماحول وماحولیات اور اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن کے فریقین کی کانفرنس (کاپ 15) کے 15ویں اجلاس کے صدر ہوانگ رن چھیو نے کہا ہے کہ چین کے طرزعمل اورحیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ باہمی طور پرالگ نہیں ہیں کیونکہ انسان اور فطرت ہم نصیب تقدیر کا حامل معاشرہ ہے۔
چینی وزیر نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یہاں کاپ 15کے دوسرے مرحلے میں چینی پویلین کے افتتاح کے موقع پرکیا۔
چینی پویلین 7 سے 18 دسمبر تک مختلف عنوانات کے ساتھ 26 سائیڈ ایونٹس کا انعقاد کرے گا۔ اس موقع پر ہونے والی پہلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوانگ نے کہا کہ یہاں کی جانے والی کوششیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پرعالمی اتفاق رائے کو مزید مستحکم کریں گی اور "2020 کے بعد کے عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک" تک پہنچنے میں مدد فراہم کریں گی،جومونٹریال میں میں 7سے 19 دسمبرتک جاری کاپ 15 کے دوسرے مرحلے کا اہم مقصد ہیں۔
ہوانگ نے کہا کہ چین نے زمینی ماحولیاتی نظام کی 90 فیصد اقسام اور اپنی 74 فیصد اہم محفوظ جنگلی حیات کی آبادی کو مؤثر طریقے سے محفوظ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کے نئے جنگلات کا رقبہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، اور 300 سے زیادہ نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی آبادی کو بحال کیا گیا ہے۔
بیجنگ(شِنہوا) چینی محققین نے انسانی دل کی الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی) کے لیے مانیٹرنگ کا ایک ایسا طریقہ وضع کیا ہے جس میں چھاتی پر الیکٹروڈ لگانے یا کپڑے اتارنے کی ضرورت نہیں۔
جریدے آئی ای ای ای ٹرانزیکشنز میں موبائل کمپیوٹنگ کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق ای سی جی کی مانیٹرنگ کےموجودہ طریقہ کارمیں الیکٹروڈزکو جسم کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جو مریض کے لیے ایک ناخوشگوار تجربہ ہے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کنٹیکٹ لیس ای سی جی مانیٹرنگ کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی۔
کارڈیک الیکٹریکل مکینیکل سرگرمیاں اچھی طرح سے مربوط پیٹرن میں منسلک ہوتی ہیں۔ تحقیقی مضمون کے مطابق، چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے کارڈیک مکینیکل اور برقی سرگرمیوں کے درمیان رکاوٹ کو ختم کرتے ہوئے کانٹیکٹ لیس ای سی جی مانیٹرنگ کا طریقہ وضع کیا ۔
مونٹریال، کینیڈا(شِنہوا) حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی کانفرنس مونٹریال میں شروع ہو گئی۔ کانفرنس سے عالمی برادری کو کرہ ارض پر موجود انواع اور ماحولیاتی نظام کو بچانے اور تحفظ کے لیے عالمی ایکشن پلان حاصل کرنے کا مواقع ملے گا۔ 7 سے 19 دسمبر تک جاری رہنے والی اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کنونشن (کاپ 15) کے فریقین کی کانفرنس کے 15ویں اجلاس کے دوسرے مرحلے میں دنیا بھرسے مذاکرات کار شریک ہیں،جو صدی کے وسط تک ٹرانسفارمیشنل تبدیلی کے حصول کے لیے پرعزم اہداف اور مخصوص عملی اہداف کے ساتھ ایک نئے عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کی منظوری کے لیے کوشاں ہیں۔
اجلاس کے صدر چین کے حیاتیاتی ماحول اور ماحولیات کے وزیر ہوانگ رن چھیو نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو "2020 کے بعد کے عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کی منظوری کی توقع ہے اوراسے امید ہے کہ کاپ 15 عالمی حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو دور کرنے کا ایک اہم موقع ہوگی۔"
اپنے افتتاحی خطاب میں ہوانگ نے کہا کہ کانفرنس کے فریقین، بین الاقوامی تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اجلاس میں تعاون کے جذبے، سیاسی عزم، خلوص اور لچک کا مظاہرہ اور مضبوط اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے کلیدی مسائل کے حل کے لیے فعال طور پر سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے فریقین پرسیاسی وعدے کرنے، بین الاقوامی مالیاتی ان پٹ میں اضافہ جاری رکھنے اور مشاورتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر زوردیا۔
بیجنگ(شِنہوا) چین کے صدرشی جن پھنگ نے ملک کی نیشنل ہسٹری ایسوسی ایشن کو اس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباددی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین صدر شی نے مبارکباد کے خط میں ہر لحاظ سے ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر اور تمام شعبوں میں چینی قوم کی عظیم تجدید کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تاریخ پر بھروسہ رکھنے، عظیم تر تاریخی کامیابیوں کی نمائش اور نئی شراکتیں کرنے کے لیے متحدہ کوششوں کے لیے تحریک کا ایک طاقتور ذریعہ بننے پر زور دیا۔ خط میں، شی نے کہا کہ نیشنل ہسٹری ایسوسی ایشن کے قیام کے بعد سے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ایسوسی ایشن نے ملکی تاریخ کی تحقیق، تشہیر اور تعلیم کو آگے بڑھانے کے مقصد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شی نے ایسوسی ایشن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صحیح سیاسی رجحان پرقائم اور تاریخی میٹریلزم کو برقرار رکھے اور مارکسزم کی رہنمائی پر عمل کرے جو چینی سیاق و سباق اور وقت کی ضروریات کے مطابق ہے۔شی نے عوامی جموریہ چین کی تاریخ کے اہم موضوعات اور رجحانات کو پوری طرح سمجھنے اور تحقیق، تشہیر اور تعلیمی کوششوں کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششوں پر زور دیا۔
بیجنگ(شِنہوا) چین کے صدرشی جن پھنگ نے ملک کی نیشنل ہسٹری ایسوسی ایشن کو اس کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباددی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین صدر شی نے مبارکباد کے خط میں ہر لحاظ سے ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر اور تمام شعبوں میں چینی قوم کی عظیم تجدید کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تاریخ پر بھروسہ رکھنے، عظیم تر تاریخی کامیابیوں کی نمائش اور نئی شراکتیں کرنے کے لیے متحدہ کوششوں کے لیے تحریک کا ایک طاقتور ذریعہ بننے پر زور دیا۔ خط میں، شی نے کہا کہ نیشنل ہسٹری ایسوسی ایشن کے قیام کے بعد سے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ایسوسی ایشن نے ملکی تاریخ کی تحقیق، تشہیر اور تعلیم کو آگے بڑھانے کے مقصد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شی نے ایسوسی ایشن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صحیح سیاسی رجحان پرقائم اور تاریخی میٹریلزم کو برقرار رکھے اور مارکسزم کی رہنمائی پر عمل کرے جو چینی سیاق و سباق اور وقت کی ضروریات کے مطابق ہے۔شی نے عوامی جموریہ چین کی تاریخ کے اہم موضوعات اور رجحانات کو پوری طرح سمجھنے اور تحقیق، تشہیر اور تعلیمی کوششوں کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششوں پر زور دیا۔
بیجنگ(شِنہوا)چین کے بیمہ سیکٹر میں رواں سال کی ابتدائی 3 سہ ماہیوں کے دوران مستحکم آپریشن اور مناسب سالوینسی برقرار رہی ہے۔
ملک میں بینکنگ اور بیمہ کے ریگولیٹر "چائنہ بینکنگ اینڈ انشورنس ریگولیٹری کمیشن" نے بتایا کہ ریگولیٹری میٹنگ کے جائزہ کے مطابق ستمبر کے آخر تک 181 بیمہ کنندگان کا اوسط جامع سالوینسی تناسب 212 فیصد اور ان کا اوسط بنیادی سالوینسی تناسب 139.7 فیصد تھا۔
کمیشن نے مزید کہا کہ سیکٹر میں سالوینسی کا تناسب ایک مناسب حد کے اندر رہا ہے اور خطرات عام طور پر قابل کنٹرول ہیں۔
خاص طور پر پراپرٹی انشورنس کمپنیوں، لائف انشورنس کمپنیوں اور ری انشورنس کمپنیوں کا اوسط جامع سالوینسی تناسب بالترتیب 238.9 فیصد ، 204 فیصد اور 309.1 فیصد رہا ہے۔
سالوینسی کا تناسب بیمہ کنندہ کی جانب سے اپنے قرض اور دیگر ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کی ایک کلیدی اکائی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ وہ مالیاتی خطرات سے بچنے کیلئے اس شعبے کی نگرانی کو سخت کرے گا۔
بیجنگ(شِنہوا)چین میں مزید شعبوں کو شامل کرنے کیلئے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ(آر ای آئی ٹیز) کیلئے پائلٹ اسکیم کو وسعت دی جائیگی۔
چائنہ سیکورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر لی چھاؤ نے کہا کہ نئی توانائی، تحفظ آب ، نئے انفراسٹرکچر اور بنیادی ڈھانچے کے دیگر شعبوں میں آر ای آئی ٹیز کی مصنوعات تیار کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائینگی۔
لی نے مزید کہا کہ چین ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ مارکیٹ میں کم کرائے والے مکانوں کے منصوبوں کی ترقی کو فروغ دیگا اور مارکیٹ پر مبنی طویل المدتی کرایہ داری اور کمرشل رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کا احاطہ کرنے کیلئے آر ای آئی ٹیز کے پائلٹ پروگرام کو وسعت دینے پر غور کریگا۔
آر ای آئی ٹیز کی مصنوعات رئیل اسٹیٹ کے منصوبوں کو تیار کرنے کی خاطر سرمایہ جمع کرنے کیلئے مالیاتی ٹولز ہیں ۔ چین نے 2020ء میں عوامی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کا پائلٹ پروگرام شروع کیا تھا۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نومبر کے اختتام تک کل 24 آر ای آئی ٹیز انفراسٹرکچر مصنوعات کی منظوری اور 22 کا اندراج کیا گیا تھا ، جس سے 75 ارب یوآن(تقریباً 10 ارب 77 کروڑ امریکی ڈالر) اکٹھے ہوئے ہیں۔
بیجنگ(شِنہوا)چین نےامریکہ پرزور دیا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرتے ہوئے چینی علاقے کے ساتھ فوجی روابط ختم کرے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ مطالبہ جمعرات کو باقاعدہ پریس بریفنگ میں امریکہ کی جانب سے تائیوان کو طیاروں کے پرزہ جات اور آلات کی فروخت کی منظوری سے متعلق رپورٹس پرایک سوال کے جواب میں کیا۔
ماؤ نے کہا کہ چینی علاقے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک چین کے اصول اورچین-امریکہ تین مشترکہ دستاویزات خصوصاً17 اگست کے اعلامیہ کی شرائط کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسلحے کی فروخت چین کی خودمختاری اورسلامتی کے مفادات اور آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے جس سے "تائیوان کی آزادی" کی علیحدگی پسند قوتوں کو غلط پیغام جاتا ہے۔ ماؤ نے کہا کہ چین امریکہ کے اس اقدام سے سخت غیر مطمئن اوراس کی بھرپور مخالفت کرتا ہے اور اپنی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔
بیجنگ(شِنہوا)چین نےامریکہ پرزور دیا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرتے ہوئے چینی علاقے کے ساتھ فوجی روابط ختم کرے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ مطالبہ جمعرات کو باقاعدہ پریس بریفنگ میں امریکہ کی جانب سے تائیوان کو طیاروں کے پرزہ جات اور آلات کی فروخت کی منظوری سے متعلق رپورٹس پرایک سوال کے جواب میں کیا۔
ماؤ نے کہا کہ چینی علاقے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک چین کے اصول اورچین-امریکہ تین مشترکہ دستاویزات خصوصاً17 اگست کے اعلامیہ کی شرائط کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسلحے کی فروخت چین کی خودمختاری اورسلامتی کے مفادات اور آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے جس سے "تائیوان کی آزادی" کی علیحدگی پسند قوتوں کو غلط پیغام جاتا ہے۔ ماؤ نے کہا کہ چین امریکہ کے اس اقدام سے سخت غیر مطمئن اوراس کی بھرپور مخالفت کرتا ہے اور اپنی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔
اقوام متحدہ(شِنہوا)چین نےعالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سوڈان میں سیاسی تبدیلی کے عمل کی حمایت کرے، کیونکہ پابندیوں کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے سوڈان کے حوالے سے ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو سوڈانی جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ سیاسی تبدیلی کو مستحکم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے بات چیت اور مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ چینی سفیر نے کہا کہ معاشی امداد اورقرضوں میں ریلیف کی منسوخی کے ذریعے سوڈان پر دباؤ ڈالنا اس کے عوام کے لیے اجتماعی سزا سے کم نہیں ہے،اس طرح کے عمل کو ترک کرنا چاہیے کیونکہ اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ گینگ نے کہا کہ چین سوڈان کی فوجی اور سویلین سیاسی قوتوں کے درمیان طے پانے والے سیاسی فریم ورک معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ(شِنہوا)چین نےعالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سوڈان میں سیاسی تبدیلی کے عمل کی حمایت کرے، کیونکہ پابندیوں کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے سوڈان کے حوالے سے ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو سوڈانی جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے سوڈانی قیادت اور سوڈانی ملکیت کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ سیاسی تبدیلی کو مستحکم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے بات چیت اور مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ چینی سفیر نے کہا کہ معاشی امداد اورقرضوں میں ریلیف کی منسوخی کے ذریعے سوڈان پر دباؤ ڈالنا اس کے عوام کے لیے اجتماعی سزا سے کم نہیں ہے،اس طرح کے عمل کو ترک کرنا چاہیے کیونکہ اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ گینگ نے کہا کہ چین سوڈان کی فوجی اور سویلین سیاسی قوتوں کے درمیان طے پانے والے سیاسی فریم ورک معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ریاض (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آ ل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ وہ چین اورعرب ریاستوں کےپہلے سربراہی اجلاس اورچین ۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کے روز یہاں پہنچے تھے ۔
وسیع طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شی جن پھنگ کا یہ دورہ عرب دنیا کے ساتھ چین کے تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ اس سے خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ ملے گا اور نئے دور کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ۔عرب برادری کی مشترکہ تعمیر کا راستہ طےکیا جائے گا۔
دنیا ایک بار پھر نازک موڑ پر ہے۔ عالمی چیلنجز کی ایک بڑی تعداد جیسا کہ سست رفتار عالمی معیشت، مختلف بلاکس کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاست اور دولت کی وسیع ہوتی ہوئی تفریق کے ساتھ ساتھ خوراک اور سلامتی کے بڑھتے ہوئے بحران انسانیت کے عزم اور دانش کا امتحان لے رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں چین اور عرب ملکوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تعاون کو مضبوط بنانے اور مختلف بین الاقوامی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اکٹھے ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
شی نے یکم نومبر کو 31ویں عرب لیگ (اے ایل ) سربراہی اجلاس کے لیے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ چین نئے دور کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ۔عرب برادری کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششوں اور عرب ملکوں کے ساتھ مل کر باہمی تعاون کوفروغ دینے اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے ۔ تاکہ چین عرب تعلقات اور عالمی امن اور ترقی کے لیے ایک روشن مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔
موجودہ حالات میں چین اور عرب ملکوں کے لیے چین ۔عرب ریاستوں کا پہلاسربراہی اجلاس ایک تذویراتی انتخاب ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنما مستقبل کے تعاون کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے، دوطرفہ تعلقات کو جدید خطوط پر استوارکریں گے اور عالمی نظم و نسق، ترقی اور سلامتی اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے جیسے اہم مسائل پر اپنے اتفاق رائے کو مزید مستحکم کریں گے۔
چین اورخلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس سے ایک موقع کے طور پر فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی دوستی کی روایت کو برقرار رکھیں گے،مستقبل میں تعاون کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں گے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیں گے۔
چین اورعرب ملکوں نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتوں اور قوموں کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی بہترین مثال قائم کی ہے۔
70 سال قبل عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے چین اور عرب ملکوں نے ایک دوسرے کا احترام کیا ہے، ایک دوسرے سے مساوی برتاؤ کیا ہے، باہمی فائدے حاصل کیے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھا ہے۔
ریاض (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آ ل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ وہ چین اورعرب ریاستوں کےپہلے سربراہی اجلاس اورچین ۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کے روز یہاں پہنچے تھے ۔
وسیع طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شی جن پھنگ کا یہ دورہ عرب دنیا کے ساتھ چین کے تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ اس سے خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ ملے گا اور نئے دور کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ۔عرب برادری کی مشترکہ تعمیر کا راستہ طےکیا جائے گا۔
دنیا ایک بار پھر نازک موڑ پر ہے۔ عالمی چیلنجز کی ایک بڑی تعداد جیسا کہ سست رفتار عالمی معیشت، مختلف بلاکس کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاست اور دولت کی وسیع ہوتی ہوئی تفریق کے ساتھ ساتھ خوراک اور سلامتی کے بڑھتے ہوئے بحران انسانیت کے عزم اور دانش کا امتحان لے رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں چین اور عرب ملکوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تعاون کو مضبوط بنانے اور مختلف بین الاقوامی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اکٹھے ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
شی نے یکم نومبر کو 31ویں عرب لیگ (اے ایل ) سربراہی اجلاس کے لیے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ چین نئے دور کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ۔عرب برادری کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششوں اور عرب ملکوں کے ساتھ مل کر باہمی تعاون کوفروغ دینے اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے ۔ تاکہ چین عرب تعلقات اور عالمی امن اور ترقی کے لیے ایک روشن مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔
موجودہ حالات میں چین اور عرب ملکوں کے لیے چین ۔عرب ریاستوں کا پہلاسربراہی اجلاس ایک تذویراتی انتخاب ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنما مستقبل کے تعاون کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے، دوطرفہ تعلقات کو جدید خطوط پر استوارکریں گے اور عالمی نظم و نسق، ترقی اور سلامتی اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے جیسے اہم مسائل پر اپنے اتفاق رائے کو مزید مستحکم کریں گے۔
چین اورخلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس سے ایک موقع کے طور پر فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی دوستی کی روایت کو برقرار رکھیں گے،مستقبل میں تعاون کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں گے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیں گے۔
چین اورعرب ملکوں نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتوں اور قوموں کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی بہترین مثال قائم کی ہے۔
70 سال قبل عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے چین اور عرب ملکوں نے ایک دوسرے کا احترام کیا ہے، ایک دوسرے سے مساوی برتاؤ کیا ہے، باہمی فائدے حاصل کیے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھا ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) جغرافیائی اعتبار سے بہت دور چین اور عرب دنیا قدیم شاہراہ ریشم کے ساتھ دوستانہ تبادلے کی ایک طویل تاریخ سے منسلک ہیں جس نے انہیں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں قدرتی شراکت دار بنا دیا ہے۔
اب جبکہ دونوں فریقین زیادہ مثبت مشترکہ ترقی اور روشن مشترکہ مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے تیار ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اس میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ چین ۔عرب ممالک کے پہلے سربراہ اجلاس اور چین۔ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ چکے ہیں وہ سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی کر رہے ہیں۔
یہ چین ۔عرب تعلقات میں تاریخی واقعات ہیں۔ یہ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری اور باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانے ،عالمی مشکلات سے نمٹنے اور اس مشکل وقت میں عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مل کر کام کرنے کے پختہ یقین اور مضبوط عزم کا واضح اظہار ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے چین ۔عرب دنیا کو اپنی روایتی دوستی آگے بڑھانے، مضبوط اتفاق رائے قائم کرنے اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی اور اس طرح نئے دور کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ مشترکہ طور پر چین ۔عرب دنیا تعمیر کرنے کی ٹھوس بنیاد رکھی جائے گی۔
دونوں فریقوں کے درمیان دوستانہ رابطے زمانہ قدیم سے قائم ہیں۔ 70 برس قبل عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے دونوں فریق کا ایک دوسرے کا احترام کررہے ہیں ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور قابل ذکر نتائج کے ساتھ جیت کے تعاون کو انجام دے رہے ہیں۔
بیجنگ (شِنہوا) جغرافیائی اعتبار سے بہت دور چین اور عرب دنیا قدیم شاہراہ ریشم کے ساتھ دوستانہ تبادلے کی ایک طویل تاریخ سے منسلک ہیں جس نے انہیں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں قدرتی شراکت دار بنا دیا ہے۔
اب جبکہ دونوں فریقین زیادہ مثبت مشترکہ ترقی اور روشن مشترکہ مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے تیار ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اس میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ چین ۔عرب ممالک کے پہلے سربراہ اجلاس اور چین۔ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ چکے ہیں وہ سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی کر رہے ہیں۔
یہ چین ۔عرب تعلقات میں تاریخی واقعات ہیں۔ یہ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری اور باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانے ،عالمی مشکلات سے نمٹنے اور اس مشکل وقت میں عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مل کر کام کرنے کے پختہ یقین اور مضبوط عزم کا واضح اظہار ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے چین ۔عرب دنیا کو اپنی روایتی دوستی آگے بڑھانے، مضبوط اتفاق رائے قائم کرنے اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی اور اس طرح نئے دور کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ مشترکہ طور پر چین ۔عرب دنیا تعمیر کرنے کی ٹھوس بنیاد رکھی جائے گی۔
دونوں فریقوں کے درمیان دوستانہ رابطے زمانہ قدیم سے قائم ہیں۔ 70 برس قبل عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے دونوں فریق کا ایک دوسرے کا احترام کررہے ہیں ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور قابل ذکر نتائج کے ساتھ جیت کے تعاون کو انجام دے رہے ہیں۔
بیجنگ (شِنہوا) پہلے چین ۔عرب سربراہ اجلاس، چین ۔خلیج تعاون کونسل سربراہ اجلاس اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سرکاری دورے کے موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ کا ایک مضمون سعودی رونامے الر یاض میں شائع ہوا ہے۔
اس مضمون کا عنوان " اپنی ہزاروں برس پرانی دوستی کو آگے بڑھائیں اور مشترکہ طور پر ایک بہتر مستقبل بنائیں" ۔ ہے۔
اپنے مضمون میں شی جن پھنگ نے لکھاہے کہ میں ریاض واپس آ رہا ہوں اور اپنے ساتھ چینی عوام کی گہری دوستی لا رہا ہوں۔
میں یہاں اپنے عرب دوستوں کے ساتھ پہلی چین۔ عرب ریاستوں کی سربراہ کانفرنس اور چین ۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے پہلے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے اور سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرنے آیا ہوں۔
یہ دورہ ماضی کی بنیاد پر تعمیر اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک بہتر مستقبل کے آغاز کے سفر کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ دورہ ہماری روایتی دوستی کو آگے بڑھائے گا اور عرب دنیا ، خلیجی عرب ریاستوں اور سعودی عرب کے ساتھ چین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔
یہ اعزاز ہے کہ دوستی ہزاروں برس پر محیط ہے۔
چین اور عرب ریاستوں کے درمیان تبادلے 2 ہزار برس سے زیادہ پرانے ہیں۔
زمینی شاہراہ ریشم کے ساتھ ساتھ قافلوں کے مسلسل سلسلے اور سمندری راستے پر چلنے والی کشتیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طرح چینی اور عرب تہذیبوں نے ایشیائی براعظم میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ اور ایک دوسرے کو متاثر کیا۔
ان تبادلوں سے ہی چینی مٹی کے برتن ، کاغذ بنانے اور پرنٹنگ کی تکنیک مغرب میں متعارف کرائی گئی جبکہ عرب فلکیات ، کیلنڈر اور طب مشرق میں روشناس ہوئے۔
ہم نے سامان کی تجارت کی ، جدت طرازی کو فروغ دیا ، خیالات کا تبا دلہ کیا اور ثقافتی تبادلے کے فوائد باقی دنیا میں پھیلائے۔ مشرق مغرب کے معاملات اور باہمی سیکھنے میں ایک شاندار باب رقم کیا ۔
چین اور خلیج کی عرب ریاستوں کے درمیان رابطوں کو اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ مشرقی ہان عہد کے دوران ، ایک چینی سفیر گن ینگ رومی سلطنت کے لیے اپنے مشن پر "مغربی سمندروں" یعنی خلیج تک پہنچا۔
چینی سفیروں کا خلیج کی عرب ریاستوں میں پہنچنے کا یہ پہلا سرکاری ریکارڈ ہے۔
1200 برس قبل ایک عرب ملاح ابوعبیدہ نے صحار بندرگاہ سے چین کے شہر گوانگ ژو تک سفر کیا تھا جسے بعد میں دلچسپ اور معروف مہم جوئی سندباد میں پیش کیا گیا۔
1980 کی دہائی میں صحار نامی جہاز نے عرب ملاح کی طرف سے دریافت قدیم راستے کی دوبارہ تلاش کی۔ یہ دونوں فریقین کے درمیان ماضی اور موجودہ تعلقات کو باہمی طور پر جوڑتا ہے۔
سعودی عرب کے ریاض میں یونیورسٹی کے طلباء کے لیے چینی زبان میں مہارت کے مقابلے چینی پل میں ایک امیدوار حصہ لے رہی ہے۔(شِنہوا)
بیجنگ (شِنہوا) پہلے چین ۔عرب سربراہ اجلاس، چین ۔خلیج تعاون کونسل سربراہ اجلاس اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سرکاری دورے کے موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ کا ایک مضمون سعودی رونامے الر یاض میں شائع ہوا ہے۔
اس مضمون کا عنوان " اپنی ہزاروں برس پرانی دوستی کو آگے بڑھائیں اور مشترکہ طور پر ایک بہتر مستقبل بنائیں" ۔ ہے۔
اپنے مضمون میں شی جن پھنگ نے لکھاہے کہ میں ریاض واپس آ رہا ہوں اور اپنے ساتھ چینی عوام کی گہری دوستی لا رہا ہوں۔
میں یہاں اپنے عرب دوستوں کے ساتھ پہلی چین۔ عرب ریاستوں کی سربراہ کانفرنس اور چین ۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے پہلے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے اور سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرنے آیا ہوں۔
یہ دورہ ماضی کی بنیاد پر تعمیر اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک بہتر مستقبل کے آغاز کے سفر کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ دورہ ہماری روایتی دوستی کو آگے بڑھائے گا اور عرب دنیا ، خلیجی عرب ریاستوں اور سعودی عرب کے ساتھ چین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔
یہ اعزاز ہے کہ دوستی ہزاروں برس پر محیط ہے۔
چین اور عرب ریاستوں کے درمیان تبادلے 2 ہزار برس سے زیادہ پرانے ہیں۔
زمینی شاہراہ ریشم کے ساتھ ساتھ قافلوں کے مسلسل سلسلے اور سمندری راستے پر چلنے والی کشتیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طرح چینی اور عرب تہذیبوں نے ایشیائی براعظم میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ اور ایک دوسرے کو متاثر کیا۔
ان تبادلوں سے ہی چینی مٹی کے برتن ، کاغذ بنانے اور پرنٹنگ کی تکنیک مغرب میں متعارف کرائی گئی جبکہ عرب فلکیات ، کیلنڈر اور طب مشرق میں روشناس ہوئے۔
ہم نے سامان کی تجارت کی ، جدت طرازی کو فروغ دیا ، خیالات کا تبا دلہ کیا اور ثقافتی تبادلے کے فوائد باقی دنیا میں پھیلائے۔ مشرق مغرب کے معاملات اور باہمی سیکھنے میں ایک شاندار باب رقم کیا ۔
چین اور خلیج کی عرب ریاستوں کے درمیان رابطوں کو اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ مشرقی ہان عہد کے دوران ، ایک چینی سفیر گن ینگ رومی سلطنت کے لیے اپنے مشن پر "مغربی سمندروں" یعنی خلیج تک پہنچا۔
چینی سفیروں کا خلیج کی عرب ریاستوں میں پہنچنے کا یہ پہلا سرکاری ریکارڈ ہے۔
1200 برس قبل ایک عرب ملاح ابوعبیدہ نے صحار بندرگاہ سے چین کے شہر گوانگ ژو تک سفر کیا تھا جسے بعد میں دلچسپ اور معروف مہم جوئی سندباد میں پیش کیا گیا۔
1980 کی دہائی میں صحار نامی جہاز نے عرب ملاح کی طرف سے دریافت قدیم راستے کی دوبارہ تلاش کی۔ یہ دونوں فریقین کے درمیان ماضی اور موجودہ تعلقات کو باہمی طور پر جوڑتا ہے۔
سعودی عرب کے ریاض میں یونیورسٹی کے طلباء کے لیے چینی زبان میں مہارت کے مقابلے چینی پل میں ایک امیدوار حصہ لے رہی ہے۔(شِنہوا)
ریاض ( شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ چین ۔ عرب ممالک کے پہلے سربراہی اجلاس اور چین ۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ۔وہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
شی جن پھنگ کا طیارہ جیسے ہی سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سعودی شاہی فضائیہ کے 4 لڑاکا طیاروں اور شاہی ایروبیٹک ٹیم کے 6 سعودی ہاک طیاروں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
طیارہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا تو ان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 21 توپوں کی سلامی دی گئی، سعودی ہاکس نے چین کے قومی پرچم میں شامل سرخ اور زرد رنگ سے آسمان بھردیا۔
سعودی عرب، سعودی طیارے چین کے قومی پرچم کے رنگوں کا دھواں ریاض کے آسمان پرچھوڑرہے ہیں ۔ (شِنہوا)
جامنی رنگ کے قالین پران کا خیرمقدم ہوا۔ چین اور سعودی عرب کے قومی پرچم ہوا میں لہرارہے تھے۔ صوبہ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر آل سعود ، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود ، چینی امور پر کام کرنے والے وزیر یاسر الرمیان ، شاہی خاندان کے دیگر اہم ارکان اور حکومت کے اعلیٰ حکام نے چینی صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔
شی جن پھنگ نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں انہوں نے چینی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی عرب کی حکومت اور عوام کو گرم جوشی سے مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ 32 برس قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو تقویت ملی ہے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ عملی تعاون کے نتیجہ خیز نتائج ملے ہیں ۔
سعودی عرب ، ریاض میں چینی صدر شی جن پھنگ کے خیرمقدم کے مناظر الیکٹرانک اسکرینز پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ (شِنہوا)
شی جن پھنگ نے کہا کہ 2016 میں چین سعودی عرب جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے بعد سے شاہ سلمان اور انہوں نے باہمی تعلقات میں نمایاں پیشرفت کے لئے مل کر کام کیا ہے۔ جس سے نہ صرف ان کے عوام کو فائدہ ہوا ہے بلکہ علاقائی امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا ۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دورے میں وہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور مشترکہ طور پر چین ۔ سعودی عرب تعلقات کے لئے لائحہ عمل طے کریں گے۔
شی جن پھنگ نے یہ بھی کہا کہ وہ چین عرب ممالک کے پہلے سربراہی اجلاس اور چین جی سی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کے منتظر ہیں ۔
چین ۔عرب اور چین ۔خلیج تعاون کونسل تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے عرب ریاستوں اور خلیج تعاون کونسل ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔
ریاض ( شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ چین ۔ عرب ممالک کے پہلے سربراہی اجلاس اور چین ۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ۔وہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
شی جن پھنگ کا طیارہ جیسے ہی سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سعودی شاہی فضائیہ کے 4 لڑاکا طیاروں اور شاہی ایروبیٹک ٹیم کے 6 سعودی ہاک طیاروں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
طیارہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا تو ان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 21 توپوں کی سلامی دی گئی، سعودی ہاکس نے چین کے قومی پرچم میں شامل سرخ اور زرد رنگ سے آسمان بھردیا۔
سعودی عرب، سعودی طیارے چین کے قومی پرچم کے رنگوں کا دھواں ریاض کے آسمان پرچھوڑرہے ہیں ۔ (شِنہوا)
جامنی رنگ کے قالین پران کا خیرمقدم ہوا۔ چین اور سعودی عرب کے قومی پرچم ہوا میں لہرارہے تھے۔ صوبہ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر آل سعود ، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود ، چینی امور پر کام کرنے والے وزیر یاسر الرمیان ، شاہی خاندان کے دیگر اہم ارکان اور حکومت کے اعلیٰ حکام نے چینی صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔
شی جن پھنگ نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں انہوں نے چینی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی عرب کی حکومت اور عوام کو گرم جوشی سے مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ 32 برس قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو تقویت ملی ہے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ عملی تعاون کے نتیجہ خیز نتائج ملے ہیں ۔
سعودی عرب ، ریاض میں چینی صدر شی جن پھنگ کے خیرمقدم کے مناظر الیکٹرانک اسکرینز پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ (شِنہوا)
شی جن پھنگ نے کہا کہ 2016 میں چین سعودی عرب جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے بعد سے شاہ سلمان اور انہوں نے باہمی تعلقات میں نمایاں پیشرفت کے لئے مل کر کام کیا ہے۔ جس سے نہ صرف ان کے عوام کو فائدہ ہوا ہے بلکہ علاقائی امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا ۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دورے میں وہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور مشترکہ طور پر چین ۔ سعودی عرب تعلقات کے لئے لائحہ عمل طے کریں گے۔
شی جن پھنگ نے یہ بھی کہا کہ وہ چین عرب ممالک کے پہلے سربراہی اجلاس اور چین جی سی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کے منتظر ہیں ۔
چین ۔عرب اور چین ۔خلیج تعاون کونسل تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے عرب ریاستوں اور خلیج تعاون کونسل ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔
بیجنگ (شِنہوا) گوانگ ڈونگ صوبائی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب ڈائریکٹر لی چھون شینگ کے خلاف پارٹی نظم ونسق اور قوانین کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں تحقیقات جاری ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا مرکزی کمیشن برائے نظم ونسق معائنہ اور قومی نگراں کمیشن ان سے تحقیقات کررہا ہے۔
نان ننگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خوداختیار علاقہ سے طبی عملے کے 41 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم بالترتیب نائجراور کوموروس کے لیے روانہ ہوئی جہاں وہ طبی امداد کے کاموں کو سرانجام دیں گی ۔
بدھ کے روز نائجر اور کوموروس جانے والے اس طبی عملے کی تعداد بالترتیب 30 اور 11 ہے۔
نائجر جانے والی میڈیکل ٹیم کے رہنما لنگ یونگ پنگ نے کہا ہم اپنی پوری مہارت کو بروئے کار لائیں گے اور نائجر میں عالمی وبائی مرض کی روک تھام اور کنٹرول کے کام میں فعال کردار ادا کریں گے۔
کوموروس جانے والی میڈیکل ٹیم کے سربراہ پان چھن شی نے کہا کہ اس ٹیم کا مقصد مقامی لوگوں کے ساتھ تعلیمی تبادلوں اور ڈاکٹروں اور مریضوں کی باہمی بات چیت کے ذریعے روابط اور تبادلوں کو مستحکم بنا نا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے انتظام کے چینی تجربے کو بھی آگے بڑھانا ہےاور روایتی چینی طب کی روایات کو پھیلانا ہے۔
سال 1976 میں جب سے اس خطے نے اپنی پہلی طبی ٹیم نائجر بھیجی ہے تب سے گوانگشی نے تقریباً 700 طبی عملہ نائجر اور 150 کو کوموروس روانہ کیا ہے ۔
انہوں نے 10 لاکھ سے زیادہ مقامی مریضوں کے لیے طبی خدمات فراہم کی ہیں اور اس وقت سے لے کر اب تک 10 ہزار مقامی ڈاکٹروں کو تربیت دی ہے۔
نان ننگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خوداختیار علاقہ سے طبی عملے کے 41 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم بالترتیب نائجراور کوموروس کے لیے روانہ ہوئی جہاں وہ طبی امداد کے کاموں کو سرانجام دیں گی ۔
بدھ کے روز نائجر اور کوموروس جانے والے اس طبی عملے کی تعداد بالترتیب 30 اور 11 ہے۔
نائجر جانے والی میڈیکل ٹیم کے رہنما لنگ یونگ پنگ نے کہا ہم اپنی پوری مہارت کو بروئے کار لائیں گے اور نائجر میں عالمی وبائی مرض کی روک تھام اور کنٹرول کے کام میں فعال کردار ادا کریں گے۔
کوموروس جانے والی میڈیکل ٹیم کے سربراہ پان چھن شی نے کہا کہ اس ٹیم کا مقصد مقامی لوگوں کے ساتھ تعلیمی تبادلوں اور ڈاکٹروں اور مریضوں کی باہمی بات چیت کے ذریعے روابط اور تبادلوں کو مستحکم بنا نا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے انتظام کے چینی تجربے کو بھی آگے بڑھانا ہےاور روایتی چینی طب کی روایات کو پھیلانا ہے۔
سال 1976 میں جب سے اس خطے نے اپنی پہلی طبی ٹیم نائجر بھیجی ہے تب سے گوانگشی نے تقریباً 700 طبی عملہ نائجر اور 150 کو کوموروس روانہ کیا ہے ۔
انہوں نے 10 لاکھ سے زیادہ مقامی مریضوں کے لیے طبی خدمات فراہم کی ہیں اور اس وقت سے لے کر اب تک 10 ہزار مقامی ڈاکٹروں کو تربیت دی ہے۔
لاس اینجلس (شِنہوا) امریکہ کی سب سے گنجان آباد کاؤنٹی لاس اینجلس میں 2021 میں ہونے والے نفرت انگیز جرائم 2002 کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کمیشن برائے انسانی تعلقات کی جاری کردہ 2021 کی نفرت انگیز جرائم بارے رپورٹ کے مطابق کاؤنٹی میں 786 ایسے جرائم رپورٹ ہوئے جو گزشتہ برس کی نسبت 23 فیصد زائد ہے ۔
1 کروڑ سے زائد آبادی والی اس کاؤنٹی میں گزشتہ 7 برس کے دوران نفرت انگیز جرائم میں اضافے کا رجحان رہا ہے اور 2013 کے بعد اس میں 105 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں نفرت انگیز جرائم میں سے تقریباً 74 فیصد پرتشدد نوعیت کے تھے جو گزشتہ 20 برس میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاؤنٹی میں نفرت انگیز جرائم کی تمام کیٹگریز میں اضافہ ہوا ہے تاہم سب سے بڑا اضافہ نسلی جرائم میں تھا جو 17 فیصد اضافے سے 406 سے بڑھ کر 473 ہوگئے۔
اگرچہ کاؤنٹی ملک کی آبادی کا صرف 9 فیصد ہے تاہم افریقی امریکی ایک بار پھر غیر متناسب طریقے سے نشانہ بنے ہیں۔ اس میں نسلی نفرت جرائم کے متاثرین کا تناسب 46 فیصد ہے۔ 77 فیصد ایشین مخالف جرائم بھی ہوئے جو گزشتہ 20 برس میں سب سے بڑی تعداد ہے۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں سے ایک چوتھائی میں متاثرین کو وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قراردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذہبی جرائم میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تشدد کی شرح ریکارڈ سطح پر ہے۔ ان حملوں میں سے 74 فیصد یہودی نشانہ بنے۔
رپورٹ سے یہ بات بھی سامنےآئی ہے کہ جنسی نوعیت کے جرائم میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کمیشن برائے انسانی تعلقات 1980 کے بعد سے سالانہ بنیادوں پر پولیس اداروں ، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کی تنظیموں کے ذریعہ نفرت انگیز جرائم بارے اعدادوشمار اکٹھے کرتا اور انہیں رپورٹ کی شکل دے رہا ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ یہ رپورٹ "نفرت انگیز جرائم کو دستاویزی شکل دینے کے لئے ملک میں سب سے طویل عرصے سے جاری کوششوں میں سے ایک ہے۔"
تائی یوان (شِنہوا) چین کے شمال میں کوئلہ پیدا کرنے والے بڑے صوبے شنشی نے دیہاتوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے ترقیاتی منصوبے کے دوران اپنے بیشتر دیہاتوں میں فائیو جی نیٹ ورک کی کوریج کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
صوبائی انتظامیہ برائے مواصلات کے مطابق اس صوبے نے 67 ہزار فائیو جی بیس اسٹیشن قائم کیے ہیں اور یہاں انٹرنیٹ نیٹ ورک 12 ہزار 317 انتظامی دیہاتوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں ڈاؤن لوڈ کی اوسط رفتار 300 ایم بی پی ایس سے زیادہ ہے۔
فائیو جی ٹیکنالوجی نے دیہی کسانوں کو بھی بااختیار بنایا ہے۔ یون چنگ شہر کی روی چنگ کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی 51 سالہ ہو تیانی یوان بھی ان میں سے ایک ہے ۔
وہ یوآن پینگ اسمارٹ فارم میں اپنے 1 ہزار مو(تقریباً 66.7 ہیکٹر) پر محیط گندم کے کھیتوں میں آبپاشی اور کھاد ڈالنے کے عمل کو موبائل فون یا کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے دور سے ہی کنٹرول کر سکتی ہے۔
اس وقت شنشی میں 1 کروڑ 25 لاکھ فائیو جی صارفین ہیں جہاں دیہی فائیو جی نیٹ ورک صوبے کے تمام 1 ہزار 272 ٹاؤن شپس کا احاطہ کرتا ہے۔
گزشتہ سال وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے بارے ترقیاتی منصوبے کے مطابق چین کا مقصد 2025 تک تمام شہروں اور قصبوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر دیہاتوں میں فائیو جی نیٹ ورک کی کوریج حاصل کرنا ہے ۔
بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے حال ہی میں سعودی عرب میں چینی زبان سیکھنے والوں کے نمائندوں کو ایک جوابی خط لکھا ہے جس میں سعودی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ چینی زبان اچھی طرح سیکھیں اور چین ۔سعودی عرب اور چین ۔ عرب دوستی کو مضبوط بنانے میں نیا کردار ادا کریں۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ زبان کسی ملک کو سمجھنے کی بہترین کنجی ہے، شی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نوجوانوں نے چینی زبان سیکھنے اور "چینی برج " تبادلے کے پروگرام میں حصہ لینے کے ذریعے رنگارنگ ، کثیر الجہتی اور جامع چین بارے سیکھا ہے۔
شی نے کہا کہ اس وقت چینی اور سعودی عوام دونوں اپنے عظیم خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے اور ایک دوسرے کی تاریخ و ثقافت سمجھنے سے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی رشتے قائم کرنے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ انسانی برادری کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی۔
چینی صدر نے کہا کہ نوجوان لامحدود امیدیں پیدا کرتے ہیں اور نوجوان نسل چین ۔سعودی عرب اور چین ۔عرب دوستی کا مستقبل ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ طلباء اچھے وقت کو یاد رکھیں گے اور سخت محنت کریں گے تاکہ چین اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ چین اور عرب کے مابین دوستی بڑھانے میں نیا کردار ادا کیا جاسکے۔
شی نے کہا کہ طلباء کو چین کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا جاتا ہے جہاں وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ اور چینی نوجوانوں کے ساتھ طویل المعیاد دوستی کو بڑھا سکتے ہیں تاکہ مشترکہ طور پر چین۔ سعودی عرب اور چین ۔عرب تعلقات کے لئے بہتر مستقبل تشکیل دیا جاسکے۔
سعودی عرب کے 100 سے زائد نوجوان چینی زبان سیکھنے والوں اور اس کے پرستاروں نے حال ہی میں شی کو خط لکھ کر چینی زبان سیکھنے اور اپنے خیالات سے آگاہ کرتے ہوئے چین بارے مزید جاننے کی خواہش کی اور سعودی عرب ۔چین دوستی کو فروغ دینے کے لیے نوجوان سفیر بننے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
سعودی عرب چینی زبان کو اپنے تعلیمی نظام میں شامل کرچکا ہے ،9 جامعات میں چینی زبان بارے بڑے ادارے قائم کئے گئے ہیں۔
300 سے زائد مقامی چینی زبان کے اساتذہ کو تربیت دی ہے، "چینی برج" آن لائن سرمائی کیمپس میں 1100 سے زائد کالج طلبا شریک ہیں اور بین الاقوامی چینی زبان اساتذہ اسکالرشپ کے آن لائن پروگراموں میں شامل ہونے میں 1 ہزار سے زائد کالج کے طالب علموں سے تعاون کیا گیا ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے حال ہی میں سعودی عرب میں چینی زبان سیکھنے والوں کے نمائندوں کو ایک جوابی خط لکھا ہے جس میں سعودی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ چینی زبان اچھی طرح سیکھیں اور چین ۔سعودی عرب اور چین ۔ عرب دوستی کو مضبوط بنانے میں نیا کردار ادا کریں۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ زبان کسی ملک کو سمجھنے کی بہترین کنجی ہے، شی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نوجوانوں نے چینی زبان سیکھنے اور "چینی برج " تبادلے کے پروگرام میں حصہ لینے کے ذریعے رنگارنگ ، کثیر الجہتی اور جامع چین بارے سیکھا ہے۔
شی نے کہا کہ اس وقت چینی اور سعودی عوام دونوں اپنے عظیم خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے اور ایک دوسرے کی تاریخ و ثقافت سمجھنے سے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی رشتے قائم کرنے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ انسانی برادری کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی۔
چینی صدر نے کہا کہ نوجوان لامحدود امیدیں پیدا کرتے ہیں اور نوجوان نسل چین ۔سعودی عرب اور چین ۔عرب دوستی کا مستقبل ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ طلباء اچھے وقت کو یاد رکھیں گے اور سخت محنت کریں گے تاکہ چین اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ چین اور عرب کے مابین دوستی بڑھانے میں نیا کردار ادا کیا جاسکے۔
شی نے کہا کہ طلباء کو چین کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا جاتا ہے جہاں وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ اور چینی نوجوانوں کے ساتھ طویل المعیاد دوستی کو بڑھا سکتے ہیں تاکہ مشترکہ طور پر چین۔ سعودی عرب اور چین ۔عرب تعلقات کے لئے بہتر مستقبل تشکیل دیا جاسکے۔
سعودی عرب کے 100 سے زائد نوجوان چینی زبان سیکھنے والوں اور اس کے پرستاروں نے حال ہی میں شی کو خط لکھ کر چینی زبان سیکھنے اور اپنے خیالات سے آگاہ کرتے ہوئے چین بارے مزید جاننے کی خواہش کی اور سعودی عرب ۔چین دوستی کو فروغ دینے کے لیے نوجوان سفیر بننے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
سعودی عرب چینی زبان کو اپنے تعلیمی نظام میں شامل کرچکا ہے ،9 جامعات میں چینی زبان بارے بڑے ادارے قائم کئے گئے ہیں۔
300 سے زائد مقامی چینی زبان کے اساتذہ کو تربیت دی ہے، "چینی برج" آن لائن سرمائی کیمپس میں 1100 سے زائد کالج طلبا شریک ہیں اور بین الاقوامی چینی زبان اساتذہ اسکالرشپ کے آن لائن پروگراموں میں شامل ہونے میں 1 ہزار سے زائد کالج کے طالب علموں سے تعاون کیا گیا ہے۔
شنگھائی (شِنہوا) شنگھائی ڈزنی ریزورٹ کے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق شنگھائی ڈزنی ریزورٹ جمعرات سے اپنا کام دوبارہ شروع کررہا ہے۔
شنگھائی ڈزنی لینڈ کو وبا کی روک تھام اور تدارک کے انتظامات کے لئے 29 نومبر سے عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا جبکہ ڈزنی ٹاؤن ، وشنگ اسٹار پارک اور 2 ریزورٹ ہوٹل اس عرصے میں معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔
ریزورٹ میں وبا پر قابو پانے کے اقدامات کو مقامی حکومت کی تازہ ترین ہدایات کے مطابق اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے اور مہمانوں کی اچھی جانچ پڑتال اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
میکسیکو سٹی (شِنہوا) امریکہ کی سرحد سے متصل میکسیکو میں مسلح شہریوں اور فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ جھڑپوں کا یہ واقعہ شمال مشرقی ریاست تامولیپاس کے شہر نیوو لاریڈو میں پیش آیا ۔
سیکرٹریٹ نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ اگرچہ صورتحال پہلے ہی قابو میں ہے تاہم ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہم احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
یہ جھڑپیں مونٹیری اورنیوو لاریڈو کے درمیان ہائی وے پرکورونا پل کے قریب گیس ڈیل نورٹ نامی گیس سپلائی کمپنی کے نزدیک ہوئی ہیں ۔
حکام نے کلاسیں بھی منسوخ کر دیں ہیں ۔
مقامی میڈیا کے مطابق نیوو لاریڈو کی میئر کارمین لیلیا سینٹوروساس نے کہا ہے کہ علاقائی تعلیمی مرکز کے حکام نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ طلبا برادری کے تحفظ کے لیے بنیادی سطح پرکلاسز کو معطل کردیا گیا ہے۔
چیئر مین آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن اعجاز احمد ناگرہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر 200 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگیاں کی جائیں تاکہ لیکویڈیٹی بحران کی وجہ سے صنعتی یونٹس کی بندش سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹیکسز، لیویز، پریزمپٹو ٹیکسز اور سرچارجز کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے جس سے برآمدات 10 فیصد مہنگی ہو جائیں گی اور نتیجتا ًاس کے ہاتھ سے عالمی منڈیاں نکلنے کا خدشہ ہے۔اس لیے اشد ضروری ہے کہ حکومت برآمدات کو کئی گنا بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فرینڈلی پالیسی اپنائے۔انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹیڈ نظام کے خاتمے اور برآمدی شعبے پر 17 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ سے کاروباری لاگت غیر پائیدار سطح تک بڑھ گئی ہے۔برآمد کنندگان کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 15.23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ برآمد کنندگان کو لیکویڈیٹی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔انہوںنے کہا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات اس سال 19.35 بلین ڈالر سے بڑھ کر 25 بلین ڈالر اور آئندہ نصف دہائی میں 50 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 16 اکتوبر سے ایف بی آر کے پاس 45 ارب روپے کے ریفنڈ پیمنٹ آرڈر زیر التوا ہیں جبکہ گزشتہ ششماہی میں موخر شدہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کی رقم 55 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
محکمہ زراعت توسیع نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں جعلی کھاد تیار کرنے والی فیکٹری پکڑلی جہاں جعلی ڈی اے پی اور سنگل سپر فاسفیٹ تیار کی جا رہی تھی۔مالک کے پاس کھاد تیار کرنے کا لائسنس موجود نہ تھا۔ٹیم نے40 لاکھ روپے کی غیر معیاری کھاد قبضہ میں لے کرتھانہ فیڈک میں بطور مال مقدمہ جمع کرادی۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع)چوہدری خالد محمود اور اسسٹنٹ کمشنر چک جھمرہ منورحسین کی زیر نگرانی محکمہ زراعت (توسیع) جھمرہ نے دبنگ کارروائی کی۔یہ فیکٹری ارشاد احمد بھٹی نامی شخص چلا رہا تھا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) نے بتایا کہ جعلی کھاد تیار کرنے والے معاشرتی ناسور ہیں جو کہ غذائی خودکفالت میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جن کا محاسبہ کیاجارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اورملزم پکڑنے کے لئے کارروائی جاری ہے۔
کوئلہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جبکہ اینٹوں کی سیل نہ ہونے اور ریٹ میں مسلسل کمی کے باعث سمندری روڈ کے تمام بھٹے 15دسمبر سے اپنی پتھیر بند جبکہ 30دسمبر کو بھٹے مکمل بند کردیں گے فیصلہ کی خلاف ورزی کرنے پر 15دسمبر کو پتھیر بند نہ کرنے والے کو 3لاکھ روپے جبکہ 30دسمبر کو بھٹہ نہ بند کرنے کی صورت میں 5لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔اس بات کا فیصلہ سمندری روڈ کی مشترکہ میٹنگ میں کیا گیا جس کی صدارت چوہدری عارف گجر اور مرکزی سینئر لیڈر میاںفرمان نے کی جبکہ زاہد اقبال سرویا، واجد گورایہ، میاں نوید، چوہدری امجد جٹ، حاجی الیاس بلو،حاجی اکرم پٹواری،ملک برہان،میاں شاہد مقبول،غلام فرید، میاں کاشف، میاں ذیشان، چوہدری فصیح باجوہ، اکرم گجر، حاجی اسلم رحمانی، رانا کاشف، حاجی دلشاد،رانا عباس،چوہدری افضل جٹ،رانا اشرف، چوہدری عمران شاہد رحمانی،میاں مجاہد اور دیگر بھٹہ مالکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔اجلاس میں تمام ممبران کی رائے سے یہ بھی طے پایا گیا کہ پختہ اینٹوں کا ریٹ 13ہزار روپے فی ہزار برقرار رکھا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر چوہدری عارف گجر اور مرکزی سینئر لیڈر میاں فرمان نے کہا کہ جتنے برے حالات بھٹے کے کاروبار کے آج ہیں اس کی ماضی میں تاریخ نہیں ملتی، لیبر کے اخراجات،اینٹوں کی تیاری کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے جبکہ اینٹوں کے ریٹ کم ہو رہے ہیں اگر یہی حالات رہے تو بھٹہ انڈسٹری دیوالیہ ہو جائے گی۔انہوںنے پورے ضلع کے بھٹہ مالکان سے اپیل کی کہ اینٹوں کی قیمتوں میں فی الفور 3ہزار روپے کا اضافہ کر دیں ورنہ ان کے کاروبار کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
گوادر پورٹ کی آپریشنل گہرائی کو بحال کرنے کے لیے ڈریجنگ کا منصوبہ جون 2023 تک مکمل ہو گا،پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں گوادر میں 23 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11.39 ارب روپے مختص ،نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 2 ارب روپے ، ڈی سیلینیشن پلانٹس کے لیے 684 ملین اورگوادر کے پرانے شہر کی بحالی کے لیے 800 ملین روپے مختص۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے گوادر پورٹ کی آپریشنل گہرائی کو بحال کرنے کے لیے اس کی ڈریجنگ کے لیے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ منصوبہ جون 2023 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔گوادر پورٹ اتھارٹی کے سرکاری ترجمان نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کی مالی اور تکنیکی مدد نے پاکستان کو گوادر کی گہرے سمندری بندرگاہ کو ترقی دینے کے قابل بنایا ہے جو کہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کا دہائیوں پرانا خواب ہے۔ گوادر کو اب چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور چین مقامی انفراسٹرکچر اور ڈویلپمنٹ میں بڑے وسائل لگا رہا ہے۔گوادر بندرگاہ کی تعمیر تجارت کو آسان بنانے کے لیے پاکستان کے مجموعی اقدام کا ایک اہم جز ہے اور اسے ایک علاقائی مرکز بننے کے طور پر تصور کیا جاتا ہے جو وسطی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطی، خلیج فارس، ایران اور جنوبی کی خشکی میں گھری ریاستوں کے ساتھ تجارتی ٹریفک کی خدمت کرتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ڈریجنگ پانی کے نیچے سے تلچھٹ اور دیگر مواد کو ہٹا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریت اور گاد کی قدرتی تعمیر کی وجہ سے بندرگاہوں کو کھودنا ضروری ہے جو دریاوں اور ندیوں میں تیز بہا وکی وجہ سے نیچے کی طرف بہتا ہے۔ڈریجنگ بندرگاہ کی توسیع کی بھی اجازت دیتی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی شپنگ کو ایڈجسٹ کیا جاسکے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گوادر پورٹ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ساحلی علاقے میں اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھولنے اور قومی اقتصادی پیداوار کو نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔گوادر پورٹ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ندیم کے مطابق ڈی سلٹنگ کے طریقہ کار اور منصوبہ بندی نے توجہ حاصل کی ہے کیونکہ بولی لگانے کے دو عمل تکنیکی تجاویز اور مالیاتی تجاویز کو دو ہفتوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اختتام پرکامیاب فرم کو بندرگاہ پر تمام برتھوں کی کھوئی ہوئی گہرائی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ڈریجنگ کا ٹھیکہ دیا جائے گا۔موجودہ حکومت بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے پرعزم ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2022-23 میں گوادر میں 23 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11.39 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گوادر پورٹ کی دیکھ بھال اور ڈریجنگ کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور دو ڈی سیلینیشن پلانٹس کے لیے 684 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔گوادر کے پرانے شہر کی بحالی کے لیے 800 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ غریب ماہی گیروں کو 2000 انجنوں کی فراہمی کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے بجٹ میں سب سے زیادہ 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پاکستان چمڑے کی برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، جدید ٹیکنالوجی ،افرادی قوت کو ہنر فراہم کر نے، کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف میں کمی، سپلائی چین کو بہتر بنا نے اور صنعت کو توانائی فراہم کر کے برآمدی ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے، امریکا، جرمنی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، ہالینڈ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، روس اور چین پاکستانی چمڑے کے ملبوسات کے لیے ٹاپ 10 مقامات میں شامل۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان جدید ٹیکنالوجی ،افرادی قوت کو ہنر فراہم کر نے، کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف میں کمی، سپلائی چین کو بہتر بنا نے اور صنعت کو توانائی فراہم کر کے چمڑے کے ملبوسات کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد اقبال نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ چمڑے کے ملبوسات کے شعبے میں ترقی کی بھرپور صلاحیت ہے لیکن اسے حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کی مدد کے لیے موثر پالیسیاں وضع کرے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت میں بیرونی سرمایہ کاری سے چمڑے کے ملبوسات کی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے بنائی گئی حکمت عملی کی طرز پر چمڑے کے شعبے کے لیے مخصوص پالیسیاں وضع کرے تو چمڑے کے ملبوسات کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔محمد اقبال نے کہا کہ برآمد کنندگان خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور محصولات کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف میں کمی اور صنعتکاروں کو بجلی اور گیس کے استعمال پر رعایت دینے سے چمڑے کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ بھارت چمڑے کی برآمدات میں ہمارا سب سے بڑا حریف ہے۔ اگر حکومت چمڑے کی صنعت کو سپورٹ نہیں کرتی ہے تو برآمد کنندگان کے لیے ہندوستانی صنعت کاروں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گیس کی قلت سے چمڑے کی صنعت بری طرح متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لکڑی جلا کر توانائی کی طلب پوری کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ان پٹ لاگت میں اضافہ ہو گا۔ اس کی وجہ سے حتمی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مصنوعات اور مینوفیکچررز کے منافع کی مانگ میں کمی آئے گی۔محمد اقبال نے کہا کہ گیس کی قلت کے باعث کئی ٹیننگ یونٹس بند ہو گئے اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ نمونوں کی درآمد اور برآمد پر کوئی ٹیرف نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے برآمد کنندگان کو چمڑے کے ملبوسات کی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزدوروں کو تربیت دینے اور انہیں جدید ترین ٹیکنالوجیز بشمول تھری ڈی اور ڈیجیٹل فیبریکیشن سے متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیمیکلز کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 20 سے 26 فیصد ہے۔ حکومت کو برآمد کنندگان کے لیے محصولات اور ٹیکسوں کو کم کرنے کے علاوہ چمڑے کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ڈیوٹی اور ٹیکس معافی برائے برآمدات اسکیم سے پاکستان میں چمڑے کی برآمدات کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ اگر حکومت چھوٹ میں 10 فیصد تک اضافہ کرتی ہے اور ساتھ ہی مسائل کو دور کرتی ہے تو پاکستان چمڑے کی اپنی برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔پاکستان بزنس کونسل کے مطابق ملک سے چمڑے کے ملبوسات کی برآمدات بنیادی طور پر یورپی خطے میں مرکوز تھیںجس کا مجموعی مارکیٹ شیئر تقریبا 80 فیصد ہے۔ پاکستان کے چمڑے کے ملبوسات کے لیے دوسرا بڑا خطہ امریکا ہے جس کے بعد ایشیا ہے۔ جرمنی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، ہالینڈ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، روس اور چین پاکستانی چمڑے کے ملبوسات کے لیے ٹاپ 10 مقامات میں شامل ہیں۔پاکستان کے پاس صرف امریکہ کو چمڑے کے ملبوسات برآمد کرنے کے لیے 52 ملین ڈالر سے زیادہ کی غیر استعمال شدہ صلاحیت ہے۔ دیگر اعلی ممکنہ مارکیٹوں میں چین اور یورپی ممالک شامل ہیں، جنہیں بہتر مارکیٹنگ اور تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کے ذریعے داخل کیا جا سکتا ہے۔